Menu

 

FacebookMySpaceTwitterDiggDeliciousStumbleuponGoogle BookmarksRedditNewsvineTechnoratiLinkedin

امام بخش:مائنس وَن'جنگ کے اِتحادیوں میں پُھوٹ - 4

امام بخش:مائنس وَن'جنگ کے اِتحادیوں میں پُھوٹ - 4

یہ پانچ قسطوں  پر مشتمل آرٹیکل کی  چوتھی قسط ہے۔ پہلی، دوسری اور  تیسری قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

 

تحریر: امام بخش

 

سال 2011ء کے آخر میں جب چند صحافی نوازشریف کے ساتھ عطاءالحق قاسمی کے گھر پردعوت ِشیراز پر جمع تھے تو نوازشریف وہاں پورے جوش وخروش سے عمران خان کو ایجنسیوں کا جمورا ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے تو ایک شریکِ محفل نے اچانک سوال داغا کہ آپ اِتنے اعتماد سے یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو نواز شریف کے مُنہ سے نکل گیا کہ "ہم سے یہ کام لیاجاتا رہا ہے اور رقوم بھی خود چل کرآتی رہیں"۔ بعد  میں جب یہ بات باہر کُھل گئی تو ایک سینئر صحافی کو اپنے اخبار اور ٹی وی پروگرام میں فریاد تک کرنی پڑی کہ یہ مطالبہ جائز نہیں کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اس دعوتِ کے تمام شرکاء سے بیانِ حلفی لیں۔

 

ایک معترضہ بات کے طور عطاءالحق قاسمی کا ذکر کرتے چلیں کہ یہ وہ کاریگر ہستی  ہیں جنھوں نے خستہ قسم کے لطیفوں اور لذیذ کھانوں کے ذریعے نوازشریف کے دل کو فتح کرنے کے بعد مال غنیمت کے طور پر خُوب سفارتیں اور امارتیں پائی ہیں۔  پچھلے سال پنجاب کی گورنری پر بھی بُری طرح ریجھ گئے، بارہا  ہرکارے دوڑائے ، مِنتیں کیں، ترلے لیے اور اپنی عظیم خدمات کی نمائش  بھی لگائی مگرمیاں محمد نوازشریف نے مَیرٹ کے عین مطابق اِن سے اعلٰی پائے کے باروچی کو پنجاب کا گورنر لگایا۔عطاءالحق قاسمی کے بدمزہ لطیفے خاندانِ شریفاں کے لیے یقیناً بہت بڑے لافنگ سٹاک ہیں مگر عام آدمی کے لیے ان کے لطیفے سُننا اپنے آپ پر تشدد کرنے کے برابر ہے۔ ان کی ایک خوبی کا ذکر نہ کرنا اِنتہائی نا اِنصافی ہو گی کہ یہ خاندانِ شریفاں کی قصیدہ گوئی میں یدِ طولٰی رکھتے ہیں۔  یہ ان کا واحد فن ہے جس سے عوام  اور خاندانِ شریفاں دونوں محظوظ ہوتے ہیں۔ جب مَدْح خوانی کرتے ہوئے عطاءالحق قاسمی نوازشریف کو عظیم اور مدّبر رہنما کہتے ہیں تو عام آدمی ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتا ہے۔

 

عمران خان کے اکتوبر 2011ء کے جلسے کے بعدنُون لیگ پر جب یہ بات پوری طرح  واضح ہو گئی کہ اب کی باراسٹیبلشمنٹ ان کی بجائے عمران خان کے پیچھے کھڑی ہے تو انھوں نے اپنی پرانی پوزیشن حاصل کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے۔ آخر کار تجربہ کار نُون لیگ کی کوششیں رنگ لے آئیں، الیکشن مئی2013ء سے قبل ہی پُرانی محبت جاگ اُٹھی، رنجشیں ختم ہوئیں اور  تعلقات پھر سے بحال ہوگئے۔ محبت کی سب مسافتیں پل بھر میں پار کرنے کے لیے نُون لیگ کی بے خودی آسمان کی رفعتوں کو چھو رہی تھی۔ میاں محمد نوازشریف اپنے دیرانہ محبوب کا اِشارہ پاتے ہی پارلیمان کی بالا دستی کو سرینڈر کرانے کے لیے لہک لہک کر چلتے ہوئے پہلے سے ہی منتظر اِفتخار محمد چوہدری کی عدالت میں میمو پر پٹیشن دائر  کرنے کے لیے جا پہنچے۔ وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ دلیل کی "د" سے بھی نا آشنا شخص نوازشریف نے خودہی کالی ٹائی اور کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کی خدمات پیش کردیں۔ "مائنس وَن"  معرکے کے اتحادیوں نے بھرپورغلغلہ برپا کیا ہوا تھا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو غدار ڈکلئیر کیا جائے کیونکہ انھوں نے پاکستان کی خود مختاری، سالمیت اور دفاع کے خلاف گہری سازش کی ہے۔ اتحادیوں کا بھرپور اصرار تھا کہ اس شرمناک سازش کے کرداروں کو قوم کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ شاید "مائنس وَن" معرکے باطل نگار اتحادی اللہ کو بالکل بھول چکے تھے، جس نے صرف دو ڈھائی سال بعد ہی شرمناک سازش کے سب کرداروں کو قوم کے سامنے بے نقاب کردیا، جب میمو گیٹ سکینڈل بریگیڈ کے کمانڈر یعنی سابق آئی ایس آئی چیف جنرل(ر) احمد شجاع پاشا نے آصف علی زرداری سے کہا کہ"مجھے معاف کردیں، غلطی ہوگئی، اس  نے جو کچھ کیااپنے باس کے کہنے پرکیا"۔

 

المختصر، تجدیدِ محبت کے بعد نُون لیگ نے اسٹیبلشمنٹ کی بہت سی شرائط کو من و عن مان لیا۔ ان میں پرویزمشرف کو بھول جانے کی بھی شرط یقیناً ہوگی، جسے نُون لیگ دیر سویر ضرور پورا کرے گی، اِس میں عدالتی پنکچرسب سے آسان ترین حل ہے۔ یاد رہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے نُون لیگ کو پہلا رول دیتے ہوئے عمران خان ایسےگوہرِنایاب پر سے اپنا "سایہء عاطِفت"بالکل نہیں ہٹایا تھا بلکہ اِنھیں بیک اَپ کےطورپر رکھ لیا۔ عمران خان کو اپنی دو سرے نمبر پر تبدیلی کا دُکھ تو ضرور ہوا ہوگا مگر صبر کے علاوہ  کوئی  دوسرا راستہ بھی نہ تھا۔ اِس لیے اسٹیبلشمنٹ کے احکامات کی پیروی کو دِل وجان  سے جاری و ساری رکھا۔ عمران خان اپنےمعماروں کی اُمیدوں سے بڑھ کر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ آج اسٹیبلشمنٹ یقیناً مطمئن ہوگی کہ دو اعلٰی قسم کے جموروں کا سٹاک ہمہ وقت موجود ہے۔

 

جیو  کی طرف سے آئی ایس آئی چیف کے خلاف  آٹھ گھنٹے کی تنقید کے فوراً بعد عمران خان بھی اِس گھمسان کی جنگ میں بھرپورطریقے سے کودپڑے ہیں اور پوری توانائی سے اپنے ماضی کے بے مثل اتحادی جنگ و جیوگروپ پر چڑھائی کردی ہے۔ حیرانی سی حیرانی ہے کہ اگر جیو آئی ایس آئی کے چیف کے خلاف آٹھ گھنٹے کوریج نہ دیتا تو کیا کپتان اِس میڈیا گروپ کے کرتوتوں پر خاموش رہتے؟ پھر عرض ہے کہ یہ بات حیرت بالائےحیرت ہے کہ کیاعمران خان کومیر شکیل الرحمٰن کے بارے میں اب پتہ چلا ہے کہ وہ  دوسروں کی کردارکشی کرنے والا فرعون ہے؟ دوسرے ملکوں سے پیسہ لے کر ایجنڈاچلاتا ہے؟ سندھ ریونیو بورڈ، نیشنل بنک اور پیمرا کا اربوں روپے کا ڈیفالٹر ہے؟  پاکستان کا سب سے بڑا بلیک میلر؟ پیسے کا پجاری اور کنگ میکر ہے؟ پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا ہے اور ذاتی مفاد کے خاطر پاکستان کو بدنام کرتا ہے؟ جیوٹی وی نُون لیگ کا میڈیا سیل ہے؟ پیمرا کے چیئر مین کو  بات نہ ماننے پر ہٹوا دیا؟ اس کا پانچواں ٹی وی (جیو تیز) غیرقانونی ہے؟ نوازشریف کو بلیک میل کرتا رہا؟ اس نے گورنر سٹیٹ بنک کو دھمکیاں دی؟ چیئرمین ایس ای سی پی کو پسندیدہ فیصلے کرانے کے لیے دھمکاتا رہا؟ اس نے امن کی آشاکے لیے اربوں روپے لیے وغیرہ وغیرہ؟ اَب یہ عمران خان کو کون بتائے کہ اِس میڈیا گروپ کے احوال ہر باشعورپاکستانی جانتا ہے مگر اِن کو اب پتہ چلا ہے؟ اگر عمران خان کی سوچنے سمجھنے اور سچ بولنے کی  یہ حالت ہے تو پھر  ماننا پڑے گا کہ نوازشریف ایسے "مدّبر رہنما"  کے بعد یہ "اِنقلابی لیڈر" یقیناً اسٹیبلشمنٹ  کی بہترین چوائس ہے۔

 

عمران خان تکرار کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ انکےپاس جنگ و جیو گروپ کے خلاف غیر ملکی فنڈز لینے کےثبوت موجودہیں۔  تو عرض ہے، ملک وقوم کے خلاف کام کرنے والے میڈیا گروپ کو عدالت میں بے نقاب کرنے کے لیے انتظار کس بات کا ہے؟ اور اگر یہ ثبوت پیش نہ کیے گئے، تو قوم کیا سمجھے کہ آپ پرلے درجے کے جُھوٹے ہیں اورزرداری  کے  خلاف مادرپدّر آزاد عدلیہ اور میڈیا کے شرمناک کردار میں آپ کا بھرپور ساتھ رہا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ آئی ایس آئی سمیت ہماری دنیا کی بہترین چھبیس ایجنسیاں کہاں تھیں کہ  جب پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ غیر ملکی فنڈز لے کر اُن کے ایجنڈوں پر کاربند رہا؟  کیا آپ یہ سوال اُٹھانے کی جُراَت کرسکتے ہیں؟

 

آج عمران خان بات بات پر اپنی عزت، وقار اور حقوق جتاتےہوئے کہتے ہیں کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔ جیو قوم سے معافی مانگے اور سوشل میڈیا پر ان کے خاندان کو بدنام کرنے پر بھی معافی مانگے۔ مزید فرماتے ہیں کہ آئی ایس آئی چیف کے خلاف میڈیا پر پروپگنڈے کامطلب کوئی ایجنڈا ہے،19 اپریل کو جیو نے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کا میڈیا ٹرائل کیا اور میڈیا ٹرائل سے متعلق پوچھنا اُن کا حق ہے۔ کوئی تو کپتان صاحب سے پوچھے کہ کیا دوتہائی سے زائد ووٹ لے کر منتخب ہونے والے صدر پاکستان آصف علی زرداری عوام کے نمانئدے نہیں تھے، جن کو آپ سرِعام گالیاں فرماتے تھے؟ جن کے خلاف ان کے خاندان سمیت سوشل میڈیا پربھرپور طوفانِ بدتمیزی مچایا گیا،  جنگ و جیو  سمیت "مائنس ون" فارمولے کےسب اتحادیوں نے آصف علی زرداری کا میڈیا ٹرائل کیا ۔ کپتان صاحب! آپ کے اپنے طے کردہ اصولوں کے مطابق افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر اور صدرِ پاکستان کے خلاف کون سا ایجنڈا تھا؟ باقی"مائنس ون" اتحادیوں کو تو چھوڑیں، کیا کبھی آپ  نے اپنی  ذاتی دشنام طرازی پر معافی مانگی؟

 

جیو کے بند ہونے سے قبل دَھن برساتے اشتہار تو بند ہوگئے تھے۔ جیو پر پروگراموں کے وقفوں میں عمران خان کی ویڈیو کے بیک گراؤنڈ میں حکیم مومن خان مومن کی غزل  غلام علی کی آواز میں بار بار چلائی جاتی تھی:

 

وہ جو ہم میں تُم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو 

وہی یعنی وعدہ نِباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو 

وہ جو لُطف مجھ پہ تھے پیشتر، وہ کرم کہ تھا مِرے حال پر 

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو 

 

یہ غزل عمران خان، خود جنگ و جیو اور مائنس ون اتحاد کے سب "صالحین" کے ماضی و حال کے کرداروں پر خوب جچتی ہے۔ "مائنس وَن" معرکے کےکمانڈروں اور "سپاہیوں" کی  آپس کی سِر پُٹھوَّل نے عوام کو ان کی شخصیت اور قول وفعل کو سمجھنے کا موقع خوب فراہم کیا ہے۔ اِس وقت ہمیں مایہ ناز صحافی ندیم سعید کا دریا کوکُوزے میں بند کردینے والا لاجواب فقرہ یاد آرہا ہے، آپ بھی پڑھتےچلیں۔"عمران خان سے لیکر حافظ سعید تک فوج نے اپنے سیاسی بارود خانے کا ہر بم چلا دیا ہے۔ میڈیا میں بھی اس کے بلا وردی جونیئر کمیشنڈ افسران سے لے کر کمیشنڈ افسران تک سب کے چہرے سے ماسک اتر گیا ہے"۔

 

(جاری ہے)

 

یہ پانچ قسطوں  پر مشتمل آرٹیکل کی  چوتھی قسط ہے۔ پہلی، دوسری اور  تیسری قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

Last modified onFriday, 13 June 2014 09:00

Leave your comments

0
terms and condition.
  • No comments found
back to top

Services

Spokesman Media Group

Spokesman Media

About Us

  • Contact Us
  • This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
  • Advertising
  • Privacy Policy
  • Interest-Based Ads
  • Terms of Use
  • Site Map

Follow Us