Menu

 

FacebookMySpaceTwitterDiggDeliciousStumbleuponGoogle BookmarksRedditNewsvineTechnoratiLinkedin

امام بخش:مائنس وَن'جنگ کے اِتحادیوں میں پُھوٹ - 3

امام بخش:مائنس وَن'جنگ کے اِتحادیوں میں پُھوٹ - 3

"مائنس وَن"جنگ کے اِتحادیوں میں پُھوٹ (3)

 

یہ پانچ حصّوں پر مشتمل آرٹیکل کی تیسری قسط ہے، پہلی اور دوسری قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

 

تحریر: امام بخش

 

آصف علی زرداری کی سیاست سے زچ ہونے والے متاثرہ گروہ کے اِتحاد کی طرف سے برپا ہونے والے"مائنس وَن" معرکے میں پُھرتیلا کردار ادا کرنے والے میاں محمدنوازشریف آج وطنِ عزیزمیں وزیرِاعظم کے عہدے پر رونق افروز ہیں۔ وہ آئی ایس آئی چیف کے خلاف خبریں آنے پر آئی ایس آئی اور ملٹری پر صدقے واری جارہے ہیں۔ فرماتے ہیں "آئی ایس آئی کا کردار اِنتہائی قابل تحسین ہے"۔ ماضی میں نوازشریف کا آئی ایس آئی سمیت فوج کے بارے میں کیا نقطہ نظر رہا ہے؟ وہ نُون لیگ چُھپانا بھی چاہے تو بھی نہیں چُھپا سکتی، کیونکہ نوازشریف کی اپنی کتاب یعنی "غدارکون؟ نوازشریف کی کہانی اُن کی زبانی" ایسا ثبوت ہے، جسے پروپگنڈے کے بے تاج نُونی بادشاہ بھی نہیں جُھٹلا سکتے۔ یہ کتاب اِنھوں نے سہیل وڑائچ سے جدّہ اور لندن میں رہائش کے دنوں میں لکھوائی تھی، جب وہ مقتدرہ قوتوں سے قلبی طور پر دُورتھے۔ اِس کتاب میں نوازشریف آئی ایس آئی اور ملٹری پر کھل کر بولے ہیں۔ آئیں اس کتاب کے چند اقتباسات (صفحات نمبر 171 سے 174) سے آپ کو روشناس کراتے ہیں۔

 

سوال: پاکستان کے بیشتر وزرائے اعظم کو یہ شکایت رہی ہے کہ خفیہ ایجنسیاں ان سے بالا بالا ہی سارے کام کرتی ہیں، اِس حوالے سے آپ کا کیا  تجربہ رہا؟

 

نوازشریف: پاکستان میں خفیہ ایجنسیاں بہت منہ زور ہوچکی ہیں۔ صدر اور وزیرِ اعظم کو بتائے بغیر کام کیے جاتے ہیں۔ دنیا کی میں کہیں بھی یہ تصور نہیں ہے کہ خفیہ ایجنسیاں حکومت کی اجازت کے بغیر کام کریں کیونکہ آپ دنیا میں یا ملک کے اندر جو بھی کاروائی کریں اس کی ذمہ داری تو حکومت پر آتی ہیں اور جوابدہی حکومت کی ہوتی ہے۔ جسے ان معاملات کا علم ہی نہیں ہوتا، مثلاً میرے پہلے دورِ حکومت میں ایک بار دو سینئر فوجی جرنیل ملنے آئے، میٹنگ شروع ہوئی تو ایک جنرل نے کہا کہ: "ملک کی معاشی حالت سنوارنےکے لیے منشیات کو حکومتی سرپرستی میں بیرونِ ملک بھجوایا جائے، ہیروئن برآمد کرنے سے ملک کی معاشی تقدیر بدل جائے گی"۔ میں اس بات پر حیران ہوا اور میں نے سختی سے پوچھا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، تو جرنیل نے جھینپتے ہوئے کہا کہ یہ تو صرف تجویز ہے اس پر دوسرے جنرل بولے کہ: "تمام ترقی یافتہ ملکوں نے بلیک منی سے ہی ترقی کی ہے، انگلینڈ ہو یا سوئٹزرلینڈیہ سب بلیک منی سے ہی امیر ہوئے تھے۔ امریکہ نے دوسرے ممالک کی دولت لوٹی ہے، ہمیں بھی چاہیئے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ملک کو منشیات کی سمگلنگ سے خوشحال بنالیں"۔ میں نے سختی سے یہ تجویز رد کردی۔

 

سوال: بے نظیر بھٹو کا یہ بھی کہنا ہے کہ فوج کےخفیہ ادارے خارجہ پالیسی کے دائرہ کار میں بھی مداخلت کرتے ہیں، یہ بات کتنی درست ہے، آپ کے تجربات کیا کہتے ہیں؟

 

نوازشریف: کیا سناؤں اور کیا نہ سناؤں۔ وزیرِ اعظم کو اپنا دل بہت بڑا رکھنا پڑتا ہے اور بہت سی باتوں پر پردہ ڈالنا پڑتا ہے۔ اپنے دوسرے دورِحکومت میں سہ ملکی کانفرنس کے حوالے سے ڈھاکہ گیا۔ وہاں میری بھارتی وزیرِ اعظم اندرکمار گجرال سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے پاکستان کے لیے بڑے نیک جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ میں ذاتی طور پر پاکستان سے اچھےتعلقات کا حامی ہوں، لیکن آپ کی آئی ایس آئی بھارت میں بدامنی پھیلاتی ہے اور یہ سب کچھ  پاکستان کی سیاسی حکومت کی مرضی کے بغیر ہوتا ہے۔ جب کہ بھارت میں ایجنسیاں ایسا نہیں کرسکتیں۔ میں نے بھارتی وزیرِ اعظم کو کہا: "آئی ایس آئی کو ہر بات کا ذمہ دار ٹھہرانا فیشن بن چکا ہے"۔ وہیں ڈھاکہ میں میری ملاقات بیگم حسینہ واجد سے ہوئی، انھوں نے شدید گلا کیا کہ: "بنگلہ دیش میں ان کے سیاسی مخالفوں کو پاکستانی آئی ایس آئی فنڈ دیتی ہے اور بنگلہ دیش میں گڑ بڑ کروانے میں بھی آئی ایس آئی کا حصہ ہے"۔ ڈھاکہ میں میری تیسری ملاقات بنگلہ دیش کے سابق صدر جنرل حسین محمد ارشاد سے ہوئی، انھوں نے کہا: "وہ پاکستان کے حامی ہیں، انھیں پاکستانی فوج سے بھی محبت ہے لیکن آئی ایس آئی نے ان کے 18 حامی اراکین کو خالدہ ضیاء کے ساتھ شامل کروادیا ہے اور ان کے پاس اس کے دستاویزی ثبوت بھی ہیں"۔ اب آپ ہی بتائیں کہ کیا کسی خفیہ ایجنسی کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں میں اس طرح کی مداخلت کر کے ان ملکوں کو پاکستان کے خلاف کرتی رہے۔ حسینہ واجد کو اچھی طرح علم ہے کہ آئی ایس آئی ان کے خلاف کیا کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے وہ جب بھی حکومت میں آتی ہیں، وہ بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کی کیا کسی ایجنسی کو خارجہ پالیسی کے نازک پہلوؤں کا علم ہوسکتا ہے۔ غلط کام ایجنسیاں کرتی ہیں اور تنائج پاکستان کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

 

سوال: آئی ایس آئی کا رول اتنابڑھا کیوں ہے؟

 

نوازشریف: مختلف فوجی حکومت کے برسراقتدار رہنے کی وجہ سے آئی ایس آئی کا رول بہت بڑھ چکا ہےکہ اب یہ ایجنسی سول حکومت کے ماتحت کام نہیں کرتی۔ بے نظیر بھٹو کو بھی یہی گلہ ہے۔ آئی ایس آئی نے پورے ملک کے سیاسی نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ فوج کا چیف آف آرمی سٹاف عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے آپ کو بادشاہ یا سپر پرائم منسٹر سمجھنے لگتا ہے۔ یہ اپنے آپ کو اس قدر طاقت ور سمجھتے ہیں کہ عوام کے منتخب کردہ وزیراعظم کو  سیلوٹ مارنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ میں جنرل آصف نواز کے دورمیں جی ایچ کیو کے دورے پر گیا تو اس نے اپنی کیپ اندر ہی اُتاردی تاکہ سیلوٹ نہ مارنا پڑے۔ البتہ وحید کاکڑ کے دور میں جب بھی جی ایچ کیو گیا تو اُس نے مجھے سیلوٹ مارا۔ جی ایچ کیو کی کئی بریفنگز میں فوج کے چیف آف آرمی سٹاف یا دوسرے جرنیل اپنی کیپ اندر رکھ کر آتے ہیں تاکہ وزیرِ اعظم کو سیلوٹ نہ کرنا پڑے۔ یہ بھارتی وزیراعظم کو سیلوٹ کرنے میں بالکل نہیں ہچکچاتے لیکن پاکستانی وزیرِاعظم  کو سیلوٹ کرنا تک انھیں گوارا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ جس طرح فوج کے کئی جرنیل اقتدار پر قبضے کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف کے لئے بھی الیکشن ہونا چاہیئے (مسکراتے ہوئے) تاکہ اگر انہوں نے اقتدار سنبھالنا ہی ہے تو کم از کم انہیں کچھ نہ کچھ ووٹ تو ملے ہوں۔

 

سوال: آئی ایس آئی  کا اصل کردار کیا ہے؟

 

نوازشریف: پاکستان میں آئی ایس آئی سیاست کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتی۔ اس نے اپنا اصلی کام بھلا کر سیاسی جماعتوں کو توڑنے اور بنانے کا کام اپنا لیا ہے۔ سیاستدانوں کی وفاداریاں بدلنے میں بھی آئی ایس آئی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ الیکشن میں دھاندلی یا اراکین اسمبلی کو بلیک میل کرنا یہ سارے کام آئی ایس آئی ہی کر رہی ہے۔ جب تک آئی ایس آئی کا رول ختم نہیں ہوگا، ملک کا سیاسی نظام مستحکم نہیں ہوسکتا، آئی ایس آئی کا اصل کام سیاست نہیں، ملکی دفاع میں مددکرنا ہے۔

 

سوال: آئی ایس آئی کا سیاسی کردار کیسے ختم ہو سکتا ہے؟

 

نوازشریف: آئی ایس آئی کے چارٹر میں تبدیلی کی ضرورت ہے میرے خیال میں آئی ایس آئی میں کوئی بھی باوردی فوجی افسر نہیں ہونا چاہیئے۔ آئی ایس آئی کو مکمل طور پر سول حکومت کے ماتحت ہونا چاہیئے۔ بھارت کی جو اس طرح کی خفیہ ایجنسی ہے اس میں کوئی بھی حاضر سروس فوجی یا باوردی افسر نہیں ہوتا۔

 

سوال: کیا آپ کو کبھی احساس ہوا کہ بطور وزیرِ اعظم بھی آپ کی جاسوسی کروائی جاتی تھی؟

 

نوازشریف: جب میں وزیرِ اعظم تھا یہ 1997ء کی بات ہے تو میری گفتگو ٹیپ ہوتی تھی۔ مجھے اپنے ذرائع سے اطلاع ملی کہ آئی ایس آئی نے ہماری گفتگوکو ریکارڈ کیا ہے۔ پھر اس کی باقاعدہ ہم نے انکوائری کروائی۔ آئی ایس آئی کے سربراہ ضیاء الدین کو میں نے یہ بات کہی۔ پھر انہوں نے لاہور میں چیک کیا تو واقعہ سچ نکلا۔ اب بتائیے کہ وزیرِ اعظم کی گفتگو ریکارڈ کرنے کا اختیار کس نے کس کو دیا ہے؟ لاہور میں بریگیڈئیر اعجاز شاہ صاحب جو تھے، وہ اس ریکارڈنگ کروانے میں شامل تھے۔ یہ وہ سارے حقائق ہیں جو بہت سی چیزوں کی وجوہات بن جاتے  ہیں۔ یہ سچا واقعہ ہے جو میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ اس میں بہت سارے لوگ شامل تھے، وہ سارا معاملہ ریکارڈ میں موجود ہے، ممکن ہے کہ گفتگو اب انہوں نے کہیں ضائع کردی ہو لیکن یہ انکوئری کرائی گئی اور واقعہ سچا نکلا تھا۔

 

سوال: آپ کے دوسرے دور میں کئی پیچیدہ سیاسی مسائل پیدا ہو ئے آپ نے احتساب کا ایسا طریق کار اپنایا کہ اپنی قائد حزب اختلاف بے نظیر بھٹو کا پتہ ہی صاف کر دیا کیا یہ جمہوری رویہ تھا؟ (صفحہ نمبر 137)

 

نوازشریف: احتساب کا طریق کار غلط تھا۔ ہمیں اس حوالے سے اکسایا گیا تھا۔ فوج اور آئی ایس آئی کا ہم پر دباؤ تھا۔ جان بوجھ کر ہم سے بے نظیر اور اپوزیشن کے خلاف ایسے اقدامات کروائے گئے تاکہ سیاست دانو ں کا اعتبار ختم ہو جائے۔

٭٭٭

 

نوازشریف نے جدّہ جانے سے صرف آٹھ دن قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اے آرڈی بنائی تھی۔ مگر12 اکتوبر 1999ء کے بعد سے ہی شریف فیملی کی طرف سے پرویز مشرف  سے جان بخشی کے لیے کی گئی پسِ پردہ فریادیں اور مِنتیں رنگ لے آئیں۔ یہ خاندان عوام کو پرویز مشرف کے قبضے میں تنہا چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں اپنے پُرتعیش سامان، پسندیدہ باورچیوں اور مالیشئیوں کے ساتھ رفوچکر ہو کر سعودی عرب میں سَروَر پیلس جاپہنچا۔ 

 

شروع شروع میں تو اپنے آپ کو شیر کہلانے کے اِنتہائی شوقین نوازشریف کی حالت یہ تھی کہ پاکستان سے آئی ہوئی ٹیلی فون کال کی گھنٹی پر ہی بید مجنوں کی طرح تھرتھرانا شروع کردیتے تھے،کیونکہ  اِنھیں شدید ڈرتھا کہ اگر فون سُن لیا تو پرویز مشرف ناراض ہوجائیں گے۔ مگر پھر آہستہ آہستہ ضمانتیوں کی تسلیوں نے  نوازشریف کو حوصلہ دیا اور وہ بولنے کے قابل ہوگئے۔ "غدارکون؟ نوازشریف کی کہانی اُن کی زبانی" نامی کتاب بھی لکھوالی۔ جس میں اپنی ماضی کی غلطیوں کو کسی حد تک تسلیم کیا گیا۔ شریف برادران نے اِس دور میں آنکھوں میں آنسو بھر بھر کر روہانسی آواز کے ساتھ  المیہ اندازمیں پختہ اداکاری کر کے بڑے بڑوں کو رُلایا۔ نوازشریف نے اپنے آپ کو ایک نئے انداز میں پیش کر کے سرِعام قرآن کی قسمیں کھائیں کہ اب وہ صرف اصول کی سیاست کریں گے۔ ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر پرویزمشرف کے ساتھ ملنے والوں کےبارے میں وہ باربار کہتے تھے کہ ان کو واپس لینا تھوک چاٹنے کے مترادف ہوگا۔ میڈیا پر مکمل کنٹرول رکھنے والے ان کے حواریوں کی مارکیٹنگ بھی باکمال میناکاری سے لیس تھی۔  اِنھوں نے اپنے تَئیں اُڑتی چڑیا کے پر گننے والے سیانے صحافیوں کو پوری طرح اپنا گرویدہ بنا کر  یقین دلا دیا کہ اب یہ شخص پہلے والا نوازشریف ہرگز نہیں بلکہ ایک بدلا ہوا بااصول شخص ہے، جس کا ماضی کے نوازشریف سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ شخصیتوں کو پوری طرح پڑھنے کے دعوے دار افلاطونی صحافیوں نے عوام میں نئے نوازشریف کی خُوب منادی کی۔ کلائمکس تب ٹُوٹا،جب  وطن واپسی پر مضبوط ہاضمے کے مالک میاں محمدنوازشریف نے تُھوک کے ڈرم کے ڈرم نگل لیے، کوئی ڈکار لیا اور نہ ہی کسی قسم کی پھکی، تو نوازشریف پر یقین کربیٹھنے والے ہوشیار صحافیوں کے ساتھ ساتھ بھولی عوام کی بھی حالت قابلِ دید تھی۔

 

(جاری ہے)

 

یہ پانچ حصّوں پر مشتمل آرٹیکل کی تیسری قسط ہے، پہلی اور دوسری قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

 

Last modified onTuesday, 10 June 2014 13:14

Leave your comments

0
terms and condition.
  • No comments found
back to top

Services

Spokesman Media Group

Spokesman Media

About Us

  • Contact Us
  • This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
  • Advertising
  • Privacy Policy
  • Interest-Based Ads
  • Terms of Use
  • Site Map

Follow Us