Menu

 

FacebookMySpaceTwitterDiggDeliciousStumbleuponGoogle BookmarksRedditNewsvineTechnoratiLinkedin

امام بخش:مائنس وَن'جنگ کے اِتحادیوں میں پُھوٹ - 2

امام بخش:مائنس وَن'جنگ کے اِتحادیوں میں پُھوٹ - 2

یہ آرٹیکل کی دوسری قسط ہے، پہلی قسط  پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

 

صدرِ پاکستان منتخب ہونے کے بعد بھی آصف علی زرداری  کے خلاف ہمیشہ کی طرح جھوٹے الزامات کی مسلسل  بھرمارجاری رہی۔ بے ہودہ لطیفوں کی فیکٹریاں ریکارڈ پیداوار دیتی رہیں۔ نظر اُٹھانے  پربھی 'توہین عدالت' کی یلغار کرنے والی عدلیہ کے معزز جج صاحبان صدرِ پاکستان کی لامتناہی  توہین  کو بھری عدالت میں  'ذہنی تفریح'  کا درجہ دیتے تھے۔ سادہ لوح لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں زہر بھرا گیا۔ ہر نفرت انگیز چیز کا تعلق زرداری سے بلا دھڑک جوڑ اجاتا رہا۔ حتٰی کہ  نُون لیگ کی طرف سے پارلیمنٹ میں  لگائے گئےاِلزام یعنی موبائل فونزمیں ڈلوائے گئے ہر سوروپے کے بیلنس میں دس روپے 'زرداری ٹیکس'نے خوب  شہرت پائی (اَب نُونی حکومت میں یہ ٹیکس کئی گُنا بڑھ گیا ہے۔ پوچھنا تو بنتا ہے کہ اب اِس ٹیکس کو کیا نام دینا چاہیئے؟)۔  المختصر پی پی پی  کی حکومت کے دوران 'مائنس وَن' معرکے کے اتحادیوں نے  دروغ گوئی کا طوفاں بپاکیا ہوا تھا ۔ اِنھوں نے حالات کو ایسی  مصنوعی شکل دی کہ عام آدمی یہ محسوس کرنے لگا کہ اب پاکستان  واقعی چند دنوں کا مہمان ہے،  زرداری  پاکستان کو بس  بیچنے ہی  والا ہے ۔ عام پاکستانی پر مائنس وَن اتحاد   کا طلسم تب ٹُوٹا جب  نُونی حکومت نے پیپلز پارٹی حکومت کےپانچ سالوں کے مہنگائی اور قرضوں سمیت سب  ریکارڈز صرف سو دنوں توڑ دیئے،  مگراِس پر  مائنس وَن  اتحادی ڈھولچکی  ایسے خاموش ہیں کہ جیسے اِن کے ڈھولوں کے  'پُوڑے ' پھٹ گئے ہوں اور یہ 'دھائِیں'  لگانے سے قاصر ہوں۔

 

پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں مائنس ون اتحادیوں نے مُلکی کنٹرول کو  چھوٹے چھوٹےحصّوں میں بانٹ رکھا تھا۔ ہم یہاں صرف دوبڑے حصّوں کا ذکر کریں گے۔ پہلے حصّے میں   وزارتِ خارجہ اور خزانہ تھیں، جن  پر مکمل کنٹرول 'اصل حکمرانوں' کا تھا۔ دُوسرےحصّے میں  وزارتِ داخلہ تھی، جس پر کُلی قبضہ  جُھوٹے سکینڈلوں کے عظیم موجد اور پھر اُنھیں منطقی اِنجام تک نہ پہنچانے والے   افتخارمحمد چوہدری  کا تھا۔ جنھوں نے  آئی جی پولیس، وفاقی سیکرٹریز،  سِول ایجینسیز کےسربراہان سے متعلق معاملات اور دوسرے انتظامی امور اپنےہاتھ میں سنبھال لیے تھے۔ ایک  منتخب وزیرِاعظم   کی حیثیت اُن کے سامنے ایک چپڑاسی کی بھی نہیں تھی۔ ایک وزیرِ اعظم کو غیر آئینی طور پر گھر بھیج دیا اور دوسرے کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے (مگر حیرت ہے  کہ حالیہ نُونی حکومت کے دوران اُسی آئین کی موجودگی میں  وزیرِاعظم  کو عدالتی استثنٰی حاصل ہے۔ اِس آئینی تشریح پر گرگٹ کا استعارہ ضرور بدل دینا چاہیئے)۔ المختصر ایک جمہوری  حکومت کے ہر جائز کام میں بھی روڑے اٹکائے گئے۔ مائنس وَن اتحاد اِتنا مربوط تھا   کہ جس کے سامنے  کسی کا پتہ چلنا  جوئے شیر لانے کے مترادف تھا اور کوئی بھی حکومت   تین سے چھ مہینے میں فارغ ہوجاتی مگر  مُشکلات کے پہاڑوں کے باوجودپاکستان پیپلز پارٹی  نے آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان کے بُنیادی مسائل کو ایڈریس کیا۔ اِس  دورِ حکومت میں1973ء کے آئین کی بحالی، این۔ ایف۔ سی ایوارڈ کی متفقہ منظوری کے بعد وسائل کی منصفانہ تقسیم،80 قومی اداروں میں 100 ارب روپے کے5لاکھ ورکرز میں 12 فیصد شیئرز کی مفت تقسیم ،وفاقی اداروں میں لاکھوں  عارضی  ملازمین  کی مستقلی ،پاک ایران گیس پائپ لائن کا عظیم منصوبہ، پاکستان کو تعمیروترقی اور معاشی خوشحالی کی  راہ پر ڈالنےوالی  گوادر بندرگاہ کا فیصلہ ، 24578 میگاواٹ سستی بجلی کے پروجیکٹس پر کام کاآ غاز،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 70 لاکھ غریب گھرانوں کی 1000روپے کی  ماہانہ معاونت ، وسیلہ حق پروگرام کے تحت مفت ٹریننگ کے بعد 3لاکھ روپے بلاسود قرضے ،وسیلہ روزگار پروگرام کے تحت60 مختلف شعبوں میں 456 ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز میں دوران تربیت 6000 روپے  کے وظیفے، زراعتی ٹیوب ویلوں پر رعائتی بجلی، پٹرول اور آٹے کی قیمتیں  پورے جنوبی ایشیا میں کم ،دوسری سبسڈیزکے علاوہ صِرف بجلی کے لیے 1400ارب روپے اور کھاد کی مد میں 1300 ارب روپےسبسیڈی ، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں پانچ سالوں میں 158٪ تک اضافہ، پورے دورِ حکومت میں ایک بھی سیاسی قیدی کا نہ ہوناا اور میڈیا کی پوری آزادی ۔ ہیئت مقتدرہ اور عدلیہ کے کھلے کِھلواڑ کے باوجود مندرجہ بالا  کارنامے آزاد میڈیا کے لیے نہ نظر آنے والا جادو کا چراغ رہے ہیں۔

 

نُون لیگ  'مائنس وَن'معرکے میں ہر اوّل  دستے میں اپنے 'دشمن ' پر  کاری وار کرنے کا بے مثال ریکارڈ رکھتی ہے۔حالیہ جنگ میں نُون لیگ سے تعلق رکھنے والے 'صُوبیدار'  میاں شہباز شریف  فرماتے ہیں "جیو نے 8 گھنٹے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تصویر لگا کر صرف اور صرف دشمنوں کو موقع دیا"۔ کیا پُورا پاکستان بھول گیا ہے کہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ  کے جلوسوں کی قیات کرتے ہوئے ماتم کرنے کے انداز میں مائیکوں کو پِیٹتے ہوئے یہی شہبازشریف  نہیں کہتے تھے کہ "اگر ہم نے انتخابات کے  بعد اِس  زرداری کو لاڑکانہ، کراچی،  پشاور اور لاہورکی سڑکوں   پر نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں"۔ مختلف شہروں میں تَمبو شوٹنگ کیمپوں میں'علی بابا   چالیس چور' کے نعرے بُلند کرتے ہوئے شہباز شریف یقین دلانے والے انداز میں کہتے تھے  کہ" پاکستان  اِس لیے ترقی نہیں کرسکتا  ایک منحوس شخص اقتدار میں ہے"۔ کیا شہباز شریف کی اِتنی شارٹ میموری ہے کہ  وہ بھول گئے ہیں   کہ اُنھوں نے خود آئی ایس آئی کے سربراہ کے سپریم کمانڈر  پر جُھوٹی  تنقید کرکے دشمنوں کو موقع کیونکر دیا؟ مُلکی خزانے سے 500 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کرنےاوربجلی و گیس  کی قیمتوں  میں کئی گُنا   اِضافے کے باوجود اِس نُونی حکومت  کے اِقتدار میں لوڈشیڈنگ میں مزید اِضافہ ہو گیا ہے، آٹے کی قیمت نے بنگلادیش اور بھارت کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔  کیا شہباز شریف  بتا سکتے ہیں کہ اَب کس منحوس شخص کا اِقتدار ہے ؟ بجلی و گیس کی کئی گنا لوڈشیڈنگ بڑھنے کی وجہ سے اُن کی  واضح کردہ سزا کے مطابق مختلف شہروں میں کس کوسڑکوں پرگھسیٹااور چوکوں پر اُلٹا لٹکایا جائے؟ مزید برآں اَب شہبازشریف خود اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ"الیکشن سے پہلے تو ہم نے بہت وعدے کیے تھے کہ چھ مہینوں میں لوڈ شیڈنگ ختم کردیں گے، دو سال میں کردیں گے، تین سال میں کردیں گے لیکن اقتدار میں آکر صورتحال کا پتہ چلا تو ہوش اُڑ گئے اور طوطے بھی اُڑ گئے، لوڈ شیڈنگ ختم کرنا بہت مشکل ہے، اِس کے لیے اربوں ڈالرز چاہئیں"۔  کوئی تو موجودہ نظام کو فرسودہ قرار دینے  اور خونی انقلاب  کے ہمہ وقت تکراری تیس سال  تک حکمرانی کرنے کے والےخاندان کے چشم وچراغ میاں شہباز شریف سے پوچھے کہ پچھلی حکومت کے خلاف جھوٹے طوفان برپا کرنے پرآپ کو اعلٰی رُتبوں کے دو خانوں میں سے کس خانے  میں بہتر طور پر فِٹ کیا جا سکتا ہے، جاہل کے خانے میں یا پھر کَذّاب خانے میں؟ آج نُونی وزیرِ ریلوے کہتے ہیں "الیکشن میں عوام سے کئے وعدے جذباتی تھے، حکومت میں آئے تو پتہ چلا کہ کس بھاؤ بکتی ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ 2018ء تک بھی ختم نہیں ہوسکتی"۔ مزید برآں الیکشن سے قبل بُلٹ ٹرین چلانے کا عظیم وعدہ فرمانے والے وزیرِاعظم میاں محمد نوازشریف اپنے برادر خورد کی جھوٹ کےللکار اور طوفانِ بدتمیزی کوفقط ' جوشِ خطابت' قراردینے والے کے وفاقی وزیر ریلوے ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ بُلٹ ٹرین کی لاگت کیا ہے؟ المختصر، نُون لیگ کے وعدوں کی تفصیل پر کیا جائیں، بات بہت طویل ہوجائے گی۔ ان کا یہ لامتناہی وطیرہ آج بھی نوٹ کیا جاسکتا ہے جب یہ لوگ حکومت میں ہیں، آدمی ان کے وژن 2025ء سے لے کر 2050ء تک کے وعدے پڑھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتا ہے۔

 

اپنی  حکومت کی ساری کارکردگی ٹی وی سکرینوں اور اخباری صفحات پربرپاکرنے والی آئین و قانون سے بالاتر نُون لیگ کو پوری طرح سمجھنا ہو تو فقط ماڈلنگ کے فن میں کمال رکھنے والےمیاں شہباز شریف کی دوسال قبل کی بجلی اور گیس کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ کے خلاف تمبو میں بیٹھے احتجاج والی تصویر دیکھ لیں۔ یہ تصویر ایک منٹ میں سب کچھ سمجھا دے گی۔

 

اِشتہار بازی کی بات چل نکلی ہے تو دو معترضہ فقرے  اور ہو جائیں۔ روزانہ کی بُنیاد پر میڈیا میں اشتہارات کی مد میں قومی خزانے سے کروڑوں روپے اُڑانے کا عظیم فریضہ ادا فرمانے والے میاں محمد شہباز شریف ہرطرف چھائے ہوئے ہیں۔ اِنھیں دُنیا کی ہر زبان میں اِتناباکمال 'عبور' حاصل ہے کہ اہلِ زبان بھی دانتوں میں اُنگلیاں دبا لیتے ہیں۔ یہ ہراشتہار کی مجبوری ہیں۔ مچھر کی جگہ ان کی تصویرکی وجہ تو بنتی ہے مگر اَن گنت بیویوں اور بے شمار بچوں والے اِس 'شریف' شخص کی خاندانی منصوبہ بندی کے اِشتہارات میں تصویر لگا کر محکمہ بہبودآبادی والے نجانے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

 

نُونی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار  بھی آئی ایس آئی کے چیف پر تنقید پر تڑپ اُٹھے ہیں اور فرماتے ہیں "دفاعی اداروں کے خلاف منفی پروپگنڈا قابلِ تفتیش ہی نہیں قابل مذمت بھی ہے"۔  ہم یاد دلادیں کہ بہت زیاد ہ وقت نہیں گذرا کہ جب آئی ایس آئی کےچیف  جنرل شجاع پاشا نے شکستہ حال تحریک ِانصاف کو جوالامکھی بنانے کے عملی اِقدامات کیے  تو چوہدری نثار نے فرمایاکہ "ہم ایسی آئی ایس آئی کوقبول نہیں کرتے ، جو پاکستان میں پارٹیاں توڑے، ممبروں کو توڑے، ایک ممبر کو اِدھر سے اُدھر کرے، لوٹا بازی میں ملوث ہو،  پاکستان کا پیسہ سیاست میں اِستعمال کرے، ہم ایسی آئی ایس آئی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں"۔ اَب سوچنے کی بات ہے کہ ہمیشہ سے مِلٹری کےبغل بچے چوہدری نثار  میں اِتنی جرات کہاں سے آگئی؟ کیا یہ جرات بھی  جی ایچ کیومیں خفیہ ملاقاتوں  میں 'بِگ باس' کی طرف سے اپنے ماتحت کے  خلاف زبان دانی کا گرین سگنل ملنے کا نتیجہ تھی؟ بندہ نُونی ، شیوربرانڈ انقلابی،عسکری اور طالبانی طبیعت کا نہ ہوتو ساری کڑیا ں پوری طرح سمجھ میں  آجاتی ہیں۔

 

یہ آرٹیکل کی دوسری قسط ہے، پہلی قسط  پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

 

(جاری ہے)

Last modified onSunday, 08 June 2014 23:31

Leave your comments

0
terms and condition.
  • No comments found
back to top

Services

Spokesman Media Group

Spokesman Media

About Us

  • Contact Us
  • This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
  • Advertising
  • Privacy Policy
  • Interest-Based Ads
  • Terms of Use
  • Site Map

Follow Us